بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اپنی تقریر میں باضابطہ طور پر اعتراف کیا کہ محمد الجولانی، ـ جو القاعدہ کے سابق سرکردہ رہنما ہیں، ـ کو انھوں نے خود شام میں برسراقتدار لایا ہے۔
ٹرمپ نے کہا: "مجھے کہنا پڑے گا کہ شام کے صدر، جنہیں بنیادی طور پر میں نے خود وہاں تعینات کیا تھا، ایک شاندار کام کر رہے ہیں۔"
شام پر حکمرانی کرنے والے موجودہ عبوری دور کے سربراہ "ابو محمد الجولانی"، بشار الاسد سے اقتدار لینے سے پہلے تحریر الشام کے سربراہ تھے۔ تحریر الشام پہلے "جبهۃ النصرہ" کے نام سے جانا جاتا تھا، جو 2016 تک شام میں القاعدہ کی سرکاری شاخ تھی اور مئی 2014 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی القاعدہ اور داعش کے خلاف پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے کل ایک دستاویز کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو مطلع کیا ہے کہ وہ دمشق میں امریکی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
نکتہ:
ایک دوست صحافی نے کہا: ہم کہتے تھے کہ الجولانی انقلاب کا ثمرہ نہيں بلکہ یہود و امریکہ کی بعض علاقائی کارندوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے لیکن بعض مسلم ممالک ہماری باتوں کو فرقہ واریت کا نتیجہ سمجھتے تھے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ